ولی دکنی کے بعد کوئی شاعر اتنے ذیادہ مداح نہیں پیدا کر سکا جتنے حبیب جالب نے کئے وہ واقعی عوامی شاعر تھا (فیض احمد فیض)
حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو انڈیا کے ہوشیار پور کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ان کا پورا نام حبیب احمد تھا، قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور روزنامہ امروز میں پروف ریڈر کے طور ملازم ہو گئے، وہ ایک ترقی پسند شاعر تھے، ان کا طرز بیان بہت سادہ، دلکش اور لوگوں سے خطابانہ تھا، پاکستان میں لگنے والے مارشل لاء کے خلاف انہوں نے باغیانہ روش اختیار کی، ان کی مارشل لاء دور میں لکھی جانے والی نظم بعنوان ‘دستور’ نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا،
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سایےمیں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا،میں نہیں مانتا
ضیاءالحق کے دور حکومت میں بھی انہوں نے اپنی باغیانہ روش کو جاری رکھا اور جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایک اور مشہور ذمانہ نظم تخلیق کی
ظلمت کو ضیا، صر صر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
حبیب جالب کا انتقال 12 مارچ 1993 کو ہوا، حکومت کی طرف سے ان کی آخری رسومات کے لئے اخراجات کی پیش کش کو جالب کے اہل خانہ نے ٹھکرا دیا، ان کے انتقال پر قتیل شفائی نے یوں غم کا اظہار کیا
اپنے سارے درد بھلا کر اوروں کے دکھ سہتا تھا
ہم جب غزلیں کہتے تھے وہ اکثر جیل میں رہتا تھا
آخر چلا ہی گیا وہ روٹھ کر ہم فرزانوں سے
وہ دیوانہ جس کو زمانہ جالب جالب کہتا تھا

